افسانے

سراب (حصہ اول)

“مان لو مسٹر دولت سے کوئی بھی چیز خریدی جا سکتی ہے” بلال کے لہجے میں تکبر نمایاں تھا.
“مگر انسان کوئی چیز نہیں” احتشام نے ترکی بہ ترکی جواب دیا. یہ بات سن کر بلال نے قہقہہ لگایا.
ہر انسان کی کوئی نہ کوئی قیمت ضرور ہوتی ہے. سچ تو یہ ہے کہ انسان کی محبت,جذبات, یہاں تک کہ ایمان کو بھی خریدا جاسکتا ہے. بشرطیکہ خریدنے والا اُس کی قیمت کا تعین کر سکے. بلال کی بات تلخ مگر کسی حد تک سچ تھی.
ہر انسان خمیر فروش نہیں ہوتا. احتشام نے بلال کی بات رد کرتے ہوئے اپنا مؤقف دہرایا.
یہ باتیں صرف پڑھنے کی حد تک اچھی لگتی ہیں. جبکہ حقیقت اِس کے برعکس ہے. اپنی بات مکمل کر کے بلال نے ایک بار پھر زور سے قہقہہ لگایا. احتشام نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور کہا.
دولت کے دبیز پردے کی بدولت تم حقیقت سے ناآشنا ہو. بے خبر انسان……… ایک طوائف جو کاغذ کے چند ٹکڑوں کے لئے لوگوں کے سامنے ناچتی ہے. لوگوں کی ہوس آلود نظروں کا مسکرا کر استقبال کرتی ہے. جس کے پاؤں میں پڑے گھنگھرو سکّوں کی جھنکار کے ساتھ بجتے ہیں. وہ بھی اپنا دل اکثر اُسی پر ہارتی ہے جس کے ہاتھ اور جیب خالی ہوں. شرجیل گردیزی کے ناول “طوائف” کی یہ سطر پڑھتے ہی چندا نے ناول بند کر کے رکھ دیا اور آخری جملے کو بار بار دہراتی رہی. اُس کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ رہی تھی. اُسے یہ پڑھ کر اچھا لگا تھا کہ کوئی تو ہے جو طوائف کے دل اور اُس کے جذبات کو سمجھتا ہے. چندا نے اب شرجیل گردیزی کی ہر کہانی پڑھنا شروع کر دی تھی جو کہ زیادہ تر ڈائجسٹ میں چھپا کرتی تھیں. چندا ایک طوائف ضرور تھی مگر پیدائشی طوائف نہ تھی.
نہ جانے وہ کیسے ماں باپ تھے جنہوں نے اُسے پیدا کیا اور گندگی کے ڈھیر پر پھینک گئے تھے. تب سے وہ آج تک گندگی میں دھنسی ہوئی تھی. اُسے گندگی کے ڈھیر سے اُٹھانے والے دو ہاتھ ایک طوائف کے تھے. جس نے اُسے مستقبل کا خزانہ سمجھ کر کوڑے کے ڈھیر سے اُٹھا کر گندگی کی دلدل میں پھنسانے کے لیے پروان چڑھایا تھا. شرجیل گردیزی کی کہانیاں پڑھ کر اُن میں اُسے اپنا آپ نظر آیا.
رات بھر وہ لوگوں کی فرمائش پر رقص کرتی اور دن بھر شرجیل گردیزی کی کہانیاں پڑھتی. جس کی اکثر کہانیوں میں کہیں نہ کہیں طوائف کا ذکر اچّھے لفظوں میں ہوتا. وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ کیا طوائف بھی انسان ہوتی ہے؟ یہ کیسا انسان ہے جو ہم جیسوں کے لئے بھی اچھی سوچ رکھتا ہے. میں تو آج تک اپنا اصل نام نہیں جان پائی. کوئی کسی نام سے پکارتا ہے تو کوئی کسی نام سے. اُس شخص کی تحریر پڑھ کر اندازہ ہوا کہ میرے سینے میں دھڑکتا دل محبت کے جذبات و احساسات سے عاری نہیں ہے. میں جو مدّت پہلے اپنا آپ کھو چکی تھی. اب اپنی ذات کے تعاقب میں ہوں. اپنے ہونے کا احساس بیدار ہوا تو اُسے لگا کہ میں جو کچھ کر رہی ہوں اُسے کبھی دل نے قبول کیا ہی نہیں. میں تو بس کسی روبوٹ کی مانند کمانڈ کے تابع چلتی جا رہی تھی. مگر اب ایک ہی پل میں مجھے اپنی کھوئی ہوئی پہچان کا ادراک ہو چکا ہے. وہ اپنے آپ سے الجھ رہی تھی کہ طوائف کی نظر آنے والی زندگی اُس کی حقیقت کی عکاس نہیں. وہ بھی سب انسانوں کی طرح سینے میں دھڑکتا دل رکھتی ہے. جو دکھ، درد اور محرومی کے احساس پر دکھتا بھی ہے اور غمزدہ بھی ہوتا ہے.
جو سچّے جذبوں کے ساتھ چاہے جانے کا خواہش مند بھی ہے. مصنف کی تحریروں نے اُسے ایسے اپنے سحر میں جکڑا کہ وہ تصور میں خود کو شرجیل گردیزی کی کہانیوں کی ہیروئن تصور کرنے لگی. اُس کی دن بہ دن شرجیل گردیزی کی کہانیوں میں دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی. اُسے لگتا تھا کہ اُس کی کہانیوں میں طوائف کا کردار اُسی کی حقیقتِ حال ہے. شرجیل گردیزی کی کہانیاں اُس کے اندر کی عورت کو بیدار کر چکی تھیں. وہ گناہوں کی اِس دلدل سے نکلنے کے لیے کسی ہاتھ کا سہارا چاہنے لگی تھی. مگر پھر یہ سوچ کر مایوس ہو جاتی کہ اک طوائف کا سہارا کون بنے گا؟ کون میرا نام لے کر مجھے عزّت سے پکارے گا؟ کون اِس بازارِ ہوس سے اُٹھا کر مجھے اپنے گھر کی زینت بنائے گا؟ ماں باپ، بہن بھائی جیسے مقدس رشتوں کی مٹھاس سے کون روشناس کروائے گا؟ کیا حقیقت میں بھی کوئی شرجیل گردیزی جیسی سوچ رکھتا ہو گا؟؟؟
“نہیں. نہیں” ہر شخص کا ظرف ایسا نہیں ہوسکتا. وہ اپنے آپ سے الجھ رہی تھی. اِس بازار میں معاشرے کے عزت دار لوگ آتے ہیں. جن کی شرافت اِس بازار میں قدم رکھتے ہی دم توڑ دیتی ہے اور وہ حیوانیت کا پیکر بنے اپنی ہوس پوری کرنے کے بعد طوائف کو حقارت کی ٹھوکر مار کر بالا خانوں کی سیڑھیاں اُتر جاتے ہیں اور بازار سے نکلتے ہوئے شرافت اور عزّت کی پوشاک پھر سے زیب تن کر لیتے ہیں. ایسے معاشرے میں بھلا طوائف کو کون عزّت دے گا؟؟ کون سہارا بنے گا؟؟ وہ خود سے سوال کرتی اور خود ہی جواب دیتی. کبھی اپنی تائید کرتی تو کبھی خود اپنی تردید. شرجیل گردیزی بھی تو اِسی معاشرے کا حصّہ ہے. اُس کی سوچ کی سوئی ایک بار پھر شرجیل گردیزی پر آ کر اٹک گئی. وہ تو طوائف کو برا نہیں کہتا.. کیا وہ حقیقتاً اِسی سوچ کا حامل ہے؟؟ ہاں وہ اِس معاشرے کا حصّہ ضرور ہے مگر اُس کے لفظوں کی تاثیر اُس کی سچّائی کا پتا دیتی ہے. وہ طوائف کا ہمدرد ہے. وہ سوچتا ہے کہ کوئی بھی عورت اپنی خوشی سے طوائف نہیں بنتی. ہر طوائف کسی نہ کسی مجبوری سے جنم لیتی ہے
شرجیل گردیزی تم ایک عظیم انسان ہو. مجھے تم جیسے ہی انسان کی ضرورت ہے. جو میرا ہاتھ تھام کر اِس دلدل سے باہر نکال سکے.

Arish Khan

My name is Muhammad Arish Khan. I belong to the city of Khanewal. I am a lecturer of Urdu in Punjab Group of Colleges

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button