تعلیم

امتحان اک کڑوی سچائی۔

امتحان اک کڑوی سچائی۔
زندگی بذات خود ایک امتحان ہے اور دنیا امتحان گاہ۔ ہر انسان کا پرچہ الگ ہے کسی کو کسی دوسرے کی زندگی جینے کا نہ تو حق ہے نہ اختیار نہ ہی ایسی کوئی دنیاوی صورت مگر ہم پھر بھی ایک دوسرے کے معاملات میں ہاتھ پاؤں مار کے سلیبس بگاڑنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ اور جب بھی کوئی دوسرا انسان کسی امتحان سے گزر رہا ہوں تو ہم پرچہ کے حل لے کے حاضر ہو جاتے ہیں اب ہماری اس دخل اندازی سے کوئی فیل ہو یا پاس ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ جانے بغیر کہ امتحان جانچ پڑتال کا ایک عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ کی ذات نے اپنے بندوں کی پرکھ کے لئے رکھا ہے جو جتنا پیارا ہے وہ اسی قدر امتحان سے گزرتا ہے جیسے سونا آ گ میں تپ کے کندن بنتا ہے انسان اللہ تعالیٰ کے مقررہ امتحانات سے گزر کے اللہ کا مقرب ہو جاتا ہے۔ مگر اس امتحان گاہ میں جہاں سب اپنے اپنے نصاب کے مطابق پرچہ حل کرتے ہیں نادان دوستوں کو دوسروں کا پرچہ عذاب اور اپنا پرچہ آ زمائش لگتا ہے۔ اگر تعلیمی درس گاہوں کی طرف آ ئیں تو امتحانات کا عمل طلباء کی جانچ پڑتال کے لئے رکھا جاتا ھے جس سےگزر کر طلباء ایک جماعت سے دوسری جماعت میں بآسانی چلے جاتے ہیں مگر اس جانچ پڑتال میں ہم زندگی کے امتحان کی طرح بہت سی ایسی باتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہمارے ملک کے نونہالان کے لئے نہایت اہم ہیں۔ کئی سکولز میں اب نمبر دینے کی بجائے گریڈز دیئے جاتے ہیں تا کہ بچہ ذہنی طور پہ فرسٹ،سیکنڈ اور تھرڈ کی جنگ سے نکل کر ایسے مقابلے سے باہر نکل آئےجو لا حاصل ھےاور کامیابی کے اس زینے پہ چڑھنا شروع ھو جائے جو حقیقتاً سیکھنے کے عمل میں معاون ثابت ھو۔
اب اس سارے عمل میں ایک طبقہ ایسے رجحان کو بھی فروغ دیتا ھے جو نقل کو عقل پہ اور ڈگری کو علم پہ فوقیت دیتا ہے۔ ان کامقصد صرف نوکری کا حصول ہوتا ہے۔ یہ جہاں جس مقام پہ ہوں صرف اپنی ذات کے اسیر ہوتے ہیں اور اگر بد قسمتی سے درسگاہوں میں متعین ہوں تو اس طبقے کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے تعلیمی سال کے آغاز سے ان کو آ زاد بے فکر ماحول دینا ھوتا ھے جس میں یہ طبقہ دن بھر کلاسز میں بیٹھ کے موبائل استعمال کرتا ھے یا پھر ایک دوسرے کے ساتھ ٹی۔وی ڈراموں پہ گپ شپ کرتا دکھائی دیتا ھے۔ البتہ سال کے آ خر میں ان کا رزلٹ نہایت ٹاپ کا ھوتا ھے ۔کیسے؟؟؟؟؟؟؟؟
بہت آ سان ھے ۔ پیپرز کے دوران بچوں کو نقل کا زہریلا ٹیکا لگا دو۔ انہیں اس نشے کا اس قدر عادی کر دو کہ ان کو یہ طبقہ نجات کا واحد ذریعہ دکھائی دے۔ جب آ سان وسائل آ پ کے سامنے موجود ہوں تو محنت کے راستے سے جی چرانا ہی آ سان طریقہ دکھائی دیتا ہے۔ ۔زیادہ سے زیادہ والدین کو ھی معلو م ھو جائے گا تو کیا ھوا وہ کسی دوسرے سکول بچوں کو لے جا سکتے ہیں ہمارے آ رام میں خلل نہیں پڑنا چاہیئے ۔ ادارے ختم ھوتے ہیں تو ھونے دو یہ عظیم طبقہ کہیں اور ملازمت دیکھ لے گا۔ نسل برباد ھوتی ھے ھونے دو یہ کونسے ان کے ذاتی بچے ہیں۔
مگر سچ تو یہ ھے کہ جب کہیں اس لابی کے خلاف کوئی راست اقدام کئے جاتے ہیں تو سچ سے گھبرا کے یہ بچارے کلبلانے لگتے ہیں۔ نقل کی پیداوار ، نقل کے پجاری عقل کو استعمال میں لاتے ھوئے دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ جب سب یہی کر رہے ہیں تو ہمارے ایسا کرنے پہ کیا اعتراض ہے۔
فکر کی بات یہ ھے کہ علم بغاوت بلند کرنے والا ایک ھی ھوتا ھے جبکے چین کی بانسری بجانے والا مکمل گروہ ۔ اب فیصلہ کرنے والا ایک کی مانے یا اس پورے گروہ کے شکست دے ۔ مگر ایک بات اپنی جگہ کہ اصل مزا تو اس سکون میں ھے جو اس آفسر شاھی کے خلاف جہاد کر کے ملتا ھے۔ جیت اور ھار معنی نہیں رکھتی مزا تو اس جنگ میں ھے جو برائی کے خلاف لڑی جاتی ھے چاہے ہم کسی بھی فیلڈ سے منسلک ہوں۔ تقریر و تحریر بحث و مباحثہ ایسے زرائع ہیں جن کے ذریعے اظہار کیا جا سکتا ہے مگر ہم میں سے بہت سے ایمان کے کمزور ترین حصے پہ ہی کاربند رہنے کو ترجیح دیتے ہیں کہ دل ہی دل میں دوسرے کو برا سمجھتے رہو مگر منہ سے کچھ نہ بولواور یہیں سے دوغلے پن کی ابتدا ہوتی ہے جب انسان منافقت سے کام لیتے ہوئے معاشرتی بدحالی کو فروغ دیتا ہے اور تہہ در تہہ اس پہ جہالت کی تہیں چڑھاتا جاتا ہے۔ سوچنا یہ ہے کہ ہم کب اس منافقانہ سوچ و عمل سے نکل کے عملی زندگی میں داخل ہوں گے اور حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
شبانہ اشرف

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button