اسلامک

شرک

شرک کے لغوی معنی ملانے،شامل کرنے،شریک کرنے،خصہ داری اور ساجھے پن کے ہیں۔دین کی اصطلاح میں اللّٰہ تعالٰی کی زات وصفات،اختیارات اور افعال یا صفات کے تقاضوں میں کسی کو اس کا حصّہ دار بنانا یا شریک کرنا شرک ہے شرک بہت بڑا گناہ ہے اور ظلم ۔قرآن مجید میں شرک کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے
ترجمہ: بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہیں
شرک کے اقسام
1(شرک فی الصفات):
اللّٰہ تعالٰی کی ذات میں کسی کو شریک ٹھہرانا شرک فی الزات ہے۔کسی کو اللّٰہ تعالٰی کا ہمسر اور اس کے برابر سمجھنا یا اللّٰہ تعالٰی کو کو کسی کی اولاد یا کسی کو اللّٰہ تعالٰی کی اولاد سمجھنا یا دو یا تین خداؤں کا عقیدہ رکھنا سب شرک ہیں اس طرح کسی پیغمبر فرشتے کو شریک ٹھہرانا بھی شرک ہے۔
2(شرک فی الصفات)
اللّٰہ تعالٰی کی صفات میں کسی کو شریک ٹھہرانا شرک فی الصفات ہے یعنی اللّٰہ تعالٰی جیسی صفات کسی اور کے لئے ماننا،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کوئی چیز اس کے مثل (مانند) نہیں۔
3(صفات کے تقاضوں میں شرک):
اللّٰہ تعالٰی عظیم صفات کے مالک ہیں ان صفات کی عظمت کا تقاضا ہے کہ صرف اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی خقیقی الہ ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!