اسلامک

رسوماتی وآبائی ماہ رمضان

ہم دین کی تعلیمات رسمی وثقافتی طریقے سے حاصل کی ہیں۔ہمیں گھر میں سادہ دینی مفاہیم بتائے گئے ہیں جو پڑھاپے تک جوں کےتوں ہمارے اذہان میں قائم رہتے ہیں جب کہ دین کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں کے مفاہیم بدل گئے ہیں،لیکن دین کے بارے میں وہی نظریات ہیں جو بچپن میں ہمارے ذہن میں ڈالے گئے تھے۔ہم نے ان مطالب کی پرورش نہیں کی،وہی سادہ اور ابتدائی حالت میں ابھی تک ہمارے ذہنوں میں قائم ہیں۔ماہ مبارک رمضان کی تصویر بچپن میں ہمارے ذہن میں بنائی گئی تھی،وہ بدلی نہیں ہے ہم بڑے ہوگئے،بہت پڑھ لکھ گئے لیکن دین اور دینی فرصتوں کے بارے میں ہمارا وہی پرائمری نظریہ اب تک قائم ہے۔
ماہ رمضان کی وہی تصویر جو بزرگوں نے ہمارے ذہن میں ڈالی تھی،اب تک قائم ہے کہ رمضان کے اندر ایک کرنٹ کی لہر دھند کی طرح سے چھا جاتی ہے اور ہمارا احاطہ کرلتی ہے۔یہ تشبیہ اس لئے بیان کررہے ہیں تاکہ وہ تصویر جو ہمارے ذہن میں بنی ہوئی ہے وہ واضح ہو جائے۔جس طرح موسم کے بدلنے سے دھند کی لہر شہر پر چھا جاتی ہے اور کچھ عرصہ قائم رہتی ہے اور ہم اس دھند میں آجاتے ہیں۔اسی طرح کی ایک مقدس نورانی دھند ماہِ رمضان کا چاند نظر آتے ہی چھا جاتی ہے،تقدس کا ایک کرنٹ دوڑ جاتا ہے اور ہماری زندگیوں پر چھا جاتا ہے۔ہم جہاں بھی ہوں اس نورانیت کے حلقے کے اندر رہتے ہیں اور جیسے ہی ماہ رمضان ختم ہوتا ہے تو دھند چھٹ جاتی ہے اور ہم پھر سے معمول کے دنوں میں آجاتے ہیں۔
جبکہ ماہ مبارک رمضان ایک فرصت ہے جو صرف انسان کیلئے خدا وندا تبارک وتعالیٰ نے مقرر کی ہے جس طرح دین فقط انسان کے لئے ہے،دین کا ایک حصہ زمانی فرصت ہے جسے ماہ مبارک رمضان کہا گیا ہے،اس کو نے ایک رسوماتی شکل دےدی ہے۔ماہ مبارک رمضان منانے اور ماہ رمضان گذارنے کا ایک خاص شیڈول ہم نے بنادیا ہے،چاند نظر آنے سے لے کر عید تک کی روٹین بنا دی ہے کہ اس طرح سے ہمیں اپنا رمضان گزارنا ہے اور گزار لیتے ہیں اور کافی چیزوں سے محروم رہ جاتے ہیں،بیسیوں رمضان ہماری زندگی سے گزر جاتے ہیں لیکن ہم ماہ مبارک رمضان کی برکتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔۔

Tasawar Hussain

کی محمد سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح وقلم تیرے ہیں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!