کے پی کے

تناول کو نو گو ایریا میں تبدیل ہونے سے بچایا جائے

*تناول کو نو گو ایریا میں تبدیل ہونے سے بچایا جائے*
*تحریر ایم عتیق سلیمانی*
*سچ*
Sulemaniatiq572@gmail.com

سابقہ ریاست امب اور ضلع مانسہرہ کا علاقہ تنول ایک بار پھر نو گو ایریا میں تبدیل ہونے لگا ہے۔ کئی سال قبل یہاں کی صورتحال ایسی تھی کہ رات تو رات دن کے اجالے میں بھی لوگ سفر کرنے سے کتراتے تھے۔باہر کے لوگ تو اس علاقے کا رخ کرنے کا بھی نہیں سوچتے تھے۔ خون کی ندیاں بہتی تھیں۔ دشمنیاں کئی نسلوں تک چلتی تھیں اورخواتین کا بھی قتل ہوا۔ چوری ڈکیتی کی وارداتوں کا تو کوئی حساب ہی نہ تھا۔ایس پی احمد جمال نے علاقے میں امن و امان کی صورتحال قائم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا جرائم پیشہ افراد اس پولیس افیسر کو دیکھ کر راستہ بدل لیتے تھے۔اللہ اللہ کر کے علاقے میں کچھ امن قائم ہوا پچھلے کئی سالوں میں حالت بہتر رہے مگر گزشتہ سال کے آخر سے حالات پھر خراب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ایک دن میں ایک گھر سے تین تین لاشیں بھی اٹھی ہیں۔ آئے روز ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لوگوں پر فائرنگ کر کے لُوٹا جارہا ہے گھروں کے پاس لوگوں پر قاتلانہ حملے ہورہے ہیں۔لوگ گھروں میں بھی خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ علاقے میں امن کی صورتحال بری طرح متاثر ہورہی ہے۔تنول کے تھانہ جات لساں نواب اور پھلڑہ میں ایسے پولیس افسران تعینات ہونے چاہیے جو نڈر اور ایماندار ہوں۔جو صیح معنوں میں علاقے میں امن کو بحال رکھ سکیں۔ ماضی میں بھی جرائم پشہ افراد کے خلاف آپریشن ہوچکے ہیں اور کئی بار سیاسیوں کی مداخلت سے بھی آپریشن روکے گئے ہیں۔ اب ایک بار پھر علاقے کا امن تباہ کیا جارہا ہے جرائم پیشہ افراد سر اٹھا رہے ہیں۔ چوری ، راہزنی، منشیات فروشی اور سودی کاروبار والے اپنے کام میں مگن ہیں انکو نکیل ڈالنا وقت کی انتہائی اہم ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت کو خصوصی طور پر مانسہرہ تناول میں امن کی صورتحال برقرار رہ سکے۔ایک طرف تو تناول میں جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھوٹ ہے تو دوسری طرف مثالی پولیس غریب عوام کو خوب تنگ کرتی ہے۔ نام نہاد سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کیے جاتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کو بولا جاتا ہے کہ گھر میں اسلحہ ہے تو لاؤ اس پرنمبر لگا کر دیتے ہیں۔ کسی کو کہا جاتا ہے کہ تمہارے پاس اسلحہ ہے یا نہیں اگر نہ بولے تو کہتے ہیں کہ تم پر بھی پرچہ ہوگا کیونکہ تم نے اسلحہ نہیں رکھا۔ کسی کا لائسنس والا اسلحہ اٹھا کر لے آتے ہیں اور پرچہ کر دیا جاتا ہے اس ملک کا قانون لائسنس والے اسلحے پر بھی پرچہ کر کے جرمانہ کردیتا ہے۔ اگر ریاست مدینہ کا نام دینے والےپاکستان میں ایسا ہوگا تو قانون کی پاسداری کون کرے گا۔ جہاں سیدھی راہ پر چلنے والوں کو مجبور کیا جاتا ہے اور لوگ جب حد سے زیادہ مبجور کیا جاتا ہے تو لوگ الٹی راہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ اہلیان تناول پر رحم کیا جائے علاقے میں امن کا قیام ضروری ہے۔ تمام سیاسی نمائندگان بھی سیاست چمکانا چھوڑ دیں علاقے کے لیے یہی بہتر ہے کہ عوام کی سہولت کے لیے کام کیا جائے۔اگر ابھی حالات کنٹرول نہیں کیے گئے تو دیر ہوجائے گی اور علاقے میں بدامنی کے ذمہ دار یہی لوگ ہونگے۔ لہذا صوبائی حکومت آی جی کے پی کے پولیس، کمشنر ہزارہ،ڈپٹی کمشنر مانسہرہ ڈی آئی جی ہزارہ فوری اقدام اٹھائیں۔علاقہ تناول کو ایک بار پھر امن کا گوارہ بنوانا ہوگا۔ علاقے کو نوگو ایریا میں تبدیل ہونے سے بچایا جائے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button