شوبز

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ?

دنیا میں ایسے لاکھوں لوگ موجود ہیں جو اللہ کی ذات کو نہیں مانتے ان کا کہنا ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں بلکہ یہ اچانک ہونیوالے ایک دھماکے کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے اور یہ نظام بھی خودکار طریقے سے چل رہا ہے مگر اس نظرئیے کے برعکس دنیا میں ایک بھی ایسا انسان موجود نہیں جو موت سے انکار کرسکے ہر ایک اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ وہ ایک خاص وقت تک دنیا میں رہے گا اور ایک دن چپ چاپ اس دنیا کو چھوڑ جائے گا قصر مختصر یہ کہ خدا کی ذات کے منکر تو کافی ہیں لیکن موت سے انکار کرنے والا کوئی بھی اس کرہ ارضی پر موجود نہیں ہے۔

یہ دیپالپور کے معروف قبرستان کی حالت زار ہے۔ویسے تو یہاں پر زندہ لوگ سہولیات کو ترس رہے ہیں مُردوں کی فکر کون کرے گا لیکن پھر بھی اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اس جانب توجہ دلانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مجھے تو آج تک یہ معلوم معلوم نہیں ہوسکا کہ ان قبرستانوں کی دیکھ بھال کس کی ذمہ داری ہوتی ہے کیوں کہ پہلے بھی کئی مرتبہ اس پر بات کرچکا ہوں مگر بھلا نقارے میں طوطی کی صدا کون سنتا ہے۔

یہ تو ایک مثال ہے ہر شہر اور ہر گاؤں میں موجود قبرستان کا کم و بیش یہی حال ہے اگرچہ اس میں خود عوام کا بھی قصور ہے کہ وہ ایسی حماقتوں سے باز رہے اور اپنے اردگرد اور خاص طور پر مساجد اور قبرستانوں میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھے مگر اس کے باوجود انتظامیہ کو اس سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا کیوں کہ انتظامیہ ہوتی ہی ایسی چیزوں کو سدھارنے کیلئے ہے اسے چاہئے کہ تمام قبرستانوں میں باقاعدہ ملازم رکھے جو اس کی صفائی ستھرائی کا معقول انتظام رکھیں اور جو لوگ اس کے باوجود قبرستانوں کو کوڑے کا ڈھیر بنائیں ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔

باقی ہمارے پیارے سیاسی نمائندگان کو ان “نان ایشوز” سے کیا غرض ہوسکتی ہے ان لوگوں نے کون سے ان کو ووٹ دینا ہوتے ہیں اور ہماری انتظامیہ کے تو کیا ہی کہنے ہیں۔ لیکن ناامید نہیں ہونا ہم اپنی سی کوشش کرتے رہیں گے آپ بھی اس آرٹیکل کو شیئر کر کے شہرخموشاں کے خاموش باسیوں کی آواز بن سکتے ہیں۔ہوسکتا ہے کسی کو یہ یاد آ جائے کہ ہم نے بھی مرنا ہے اور ایک دن سب عہدے مرتبے چھوڑ چھاڑ کر یہیں آن کر آباد ہونا ہے۔اور صرف آباد ہی نہیں ہونا بلکہ اپنے ہر اختیار اور عہدے کا حساب بھی یہیں پر ہوگا۔

Qasim Ali

میں ایک رائٹر ہوں اور عرصہ بارہ سال سے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر آرٹیکل لکھتا آ رہا ہوں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button