ادب

بلبل فقط آواز ہے طاؤس فقط رنگ

بلبل فقط آواز ہے طاؤس فقط رنگ

؎
کر بلبل و طاؤس کی تقلید سے توبہ
بلبل فقط آواز ہے طاؤس فقط رنگ

قارئینِ کرام درج بالا شعر شاعر مشرق حضرت علامہ اقبالؒ کا ہے، جو آج کی ہماری جنریشن ذی یعنی کہ نسل نو کے لئے پیغام ہے۔ آدمی ذی قدر شاعر کا پیغام کیوں اور کس قدر ضروری ہے بتانے کے لئے ناقص کوشش کرے گا۔
ذرائع ابلاغ کی جدیدیت کا دور دورہ ہے ایسے میں انسان ہر لمحہ باخبر ہیں اور دو زندگیاں جی رہ ہیں؛ حقیقی زندگی اور تصویری زندگی۔ حقیقی زندگی خدا تعالٰی کی عطا کر دہ ہے اور تصویری زندگی اس کے بندوں کی ایجاد کیمرہ و سوشل میڈیا کی مرہونِ منت ہے۔ اِک خاص حد تک ہماری ذاتی زندگی، سماجی ابلاغی( سوشل میڈیا) والی زندگی کچھ عوامل کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ عوامل میں افراد بھی شامل ہیں آدمی بالترتیب چیدہ عوامل اور ان سے منسلک ایک خاص پہلو پہ آپکی توجہ مرکوز کروانے کی کوشش کرے گا۔

افراد

یہاں افراد سے مراد ایسے افراد جو اثر و رسوخ رکھتے ہوں۔ ایسے افراد میں صحافی، سیاستدان اور سرگرم سماجی کارکنان، اور سلیبرٹیز(بشمول مذہبی، شوبز) شامل ہیں۔ یہ تمام افراد اپنے اپنے خیالات اور اپنے متعلقہ شعبہ کی اکائیوں کا پرچار کرتے دکھتے ہیں، ان سب کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی زندگی سے متعلقہ سرگرمیوں کے بارے اپنے پیروکاروں کو گاہے بگاہے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ صحافی اور علماء حضرات نجی زندگی کو قدرے کم عوامی زینت بناتے ہیں۔ زیادہ تر شوبز سلیبرٹیز اپنے پل پل سے مداحوں کو باخبر رکھتے ہیں۔ ذیل میں موجود افراد کی فہرست میں ایک اضافہ کرتا چلا جاؤں؛ صاحبِ اثر افراد یعنی اِنفلیونسرز! سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی وجہ سے ایسے افراد(انفلیونسرز) کے لئے علیحدہ درجہ موجود ہوتا ہے۔ اس درجہ کے وجود میں آنے کے بعد نمود و نمائش میں ایک خاص حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔۔۔

درج بالا افراد کی سر گرمیاں

سیاستدان اپنے سیاسی نظریات کا پرچار کرتے ہیں، صحافی افراد سیاسی خبروں پہ اپنا تجزیہ فرماتے ہیں۔ اس طرح باقی شعبہ جات کے افراد بھی اپنے پیشے کے متعلق اور مختلف موضوعات پہ تبصرہ کرتے ہیں۔ سلیبرٹیز اپنی اداکاری کے پراجیکٹس کی تشہیر کے ساتھ اپنی سفری سرگرمیاں اور اپنی زندگی کے مختلف پہلو دکھاتے اور بتاتے نظر آتے ہیں۔ دوسرے صاحبان کے مداح سلیبرٹیز کی بہ نسبت کافی کم ہیں، یہ تعداد لاکھوں میں ہے، اکثریت قریباً نو عمر بچے، بچیوں اور نوجوانوں کی ہے اور یہ سب۔۔۔نوجوان ُانکی زندگیوں کو قریب سے دیکھتے اور اپنانے کے لئے جتن کرتے ہیں۔ اِسی کارِ ناکارہ میں اپنی پہچان اور اصلیت کھوئے جا رہے ہیں، جس سے ضیائے وقت کا عجب نا رُکنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جو اصل شخصیت پر اثرات چھوڑ رہا ہے۔

اثرات کیسے مرتب ہو رہے ہیں؟

بد قسمتی سے ہمارے اپنے بچے کھچے معاشرتی اقدار قدر کھو رہے ہیں اور دوسری تہذیوں کے رواج ہم اندھا دھن اپنائے جا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں ذہانت و قابلیت جانچنے کے معیار بدلتے جا رہیں، ہم دودھیا مائل رنگت کو ایک قابل انسان کی خصوصیات میں سے خصوصیت شمار کرتے ہیں۔ ہماری ہاں مغربی تہذیب کو اپنانے کا ایک لُغو سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ہماری شوبز انڈسڑی میں دوسروں کی نقل کوئی نئی بات نہیں چاہے وہ نقل چاہے لباس کی ہو، کرداروں کی ہو یا مواد کی ہو! ہم ہر دوسری آواز کو کلام اور رنگ کو تخلیق کاری کا درجہ دے رہے ہیں یعنی کہ ہم مغربی و ہندوی تہذیب کی ہر اکائی کو اپنی ثقافتی اکائی بنا رہے ہیں۔عبث و واہیات مواد کی تشہیر اور بے فائدہ رجحانات(ٹرینڈز) کی وجہ سے نسل نو میں بے قائدہ طبعی رجحان، نمود و نمائش اور نا معقول مشاغل اور احساس کمتری انکے اذہان میں سرائیت کرتی جا رہی ہے۔

احساس کمتری و برتری کیسے پیدا ہو رہا ہے؟

ہمارے نو عمر اور نوجوان اکثریت اپنی اصل زندگی کو بھی تصویر والے فلٹرز لگا رہے ہیں۔
چونکہ وہ سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہیں اور جن کے وہ پیروکار ہیں انکی طرح دکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ مراکزِ خریداری۔۔۔ کے باہرمہنگی گاڑیوں کے ساتھ لوگ تصویریں بنوا رہے ہوتے ہیں جو انہوں نے محض فیس بک۔۔۔ وغیرہ پہ اپلوڈ کرنی ہوتی ہیں۔ جن کے پاس آرائش کا بہتر ساز و سامان میسر ہے وہ بھی ایسے ہی لگے ہوتے ہیں۔ عمارت دکھانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کی کوشش میں عوام مصروف ہے۔ جسکے پا س میسر نہیں وہ دوسروں سے برابری کی جستجو میں رہتا ہے۔۔۔ پرسنل گرومنگ کے نام پہ ادا کاروں جیسا دکھنے کی کوشش میں نقالی کی اس روش نے سماج میں سے “ضرورت اور خواہش” کے فرق کو مٹا کر رکھ دیا ہے اس چیز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جنکے ہم پیروکار ہیں اُنکا لباس، ساز وسامان اور سفری لوازمات اکثرو بیشتر سپانسر ہوتا ہے۔۔۔!

اقبالؒ کا پیغام

اقبالؒ کی دور اندیشی کو سلام ہے جنہوں نے کئی سال پہلے قوم کو “بلبل و طاؤس” کی تقلید سے منع فرمایا تھا۔
اُنکے وقت میں بھی عوام طاؤس(مور) کے بکھرتے رنگوں یعنی مغربی تہذیب سے فریختہ اور اُنکے بول یعنی کہ بلبل کی آواز(فرنگی زبان) سے مسحور ہوتے تھے۔ اور آج صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ آج تو اندھی تقلید کو “نیو نارمل” بنایا جا رہا ہے۔ سماجی رابطہ کے ذرائع محض دکھلاوے(فلیکس) کی آماجگاہ بنتے جا رہے ہیں اور اُنکے استعمال کے اصل مقصد سے ہٹ کر بہتر و برتر نظر آنے کی جستجو جاری ہے۔ ہمارے سماج کی بقا اِسی میں ہے کہ ہم بلبل و طاؤس کی تقلید سے اجتناب کر کے نئے زمانے نئے صبح و شام پیدا کریں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!