تعلیم

کرونا وائرس کے تعلیمی نظام پر منفی اثرات

                                                           

السلام علیکم جیسا کہ آپ سب جانتےہیں کہ اج کل کرو نا ویرئس کی وجہ سے نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے تعلیمی نزام پرمنفی اثرات نافز ھو رھے ھیں ۔ سکول، کالج، یونیورسٹی جیسا کہ سب بند ہیں جس کی وجہ سے بچے پرھاہی پر توجہ نہیں دے پا رہے  اور بچے بہت ہی آزاد ہو چکے ہیں ۔ انکا پرھایئ مے دل نہیں لگتا کیونکہ سکول کالج ینیورسثٹی مے وہ مصوف رہتےتھے ۔ مگر گھر مے وہ ما حول انھے موہیا نہیں ہوتا اور اسے انکی تعلیم بہت اثر ہو رہا ہے جو کہ انکی  آنے والی زندگی میں بھی منفی اثرات قایم کرےگا۔ ایسے میں بیشتر والدین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی پڑھائی کا اتنا نقٖصان ہو رہا ہے.

کہ انھہیں فکرہے کہ طلباہ کا وقت اور سال کا نقصان ہو گا اور پاکستان جیسے ملک مے بچوں کا تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے تعلیمی اداروں مے بھی جانے میں دلچسپی کم ہوتی نظر آ رہی ہے،  بچے سکول کی عادت ہی نہ بھلا دیں۔  ایک اندازے کے مطابق کورونا کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت کو اگلے کیی سالوں تک کتنا ہی مالی طور پر اور کاروباری نقصان ہو گا یہاں تک ک غربت کی زیادتی اور بڑھنے کے امکان ہیں لیکن یہ سب وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو سکتا ہے مگر کرونا کے جو نقصان تعلیمی سطحہ پر ہوہے ہے انکوں پورا کرنا شاید ناممکن  ہو۔

                                                                                                     

 114 سے زائد ملکوں میں تمام اسکول اور کالج بند پڑے ہیں۔    طلبہ و طالبات اس سے متاثر ہیں۔  کلاس روم میں بیٹھ کر استاد کے لیکچر کو غور سے سنتے چاہے زبردستی ہی لیکن ٹیچر کی نظروں کے سامنے اچھے سے سیکھ سکتے تھے۔ اپنے استاتذ سے مشکل اور نا سمجھ آنے والی چیزوں پر سوال کرتے تھے مگر کرونا کی وجہ سے  آن لائن  تعلیم           پر آنے   سے بہت نقصان  اٹھانا  پڑ رہا ہے جہاں آمنے سامنے سوال جواب بنہیں ہو سکتے۔     اتنے  مہینے گزرنے کے باوجود تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی ہیں۔ جزوی طور پر ہی سہی، آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔جو کہ بلکل بھی فایدہ مند ٖثابت نہئں ہو رہا۔ طلبا ہ   اس چیز سے بہت نارازتھے کہ جب معیاری تعلیم اور سہولیات نہیں مل رہی تو فیس میں کمی کیوں نہیں کی جا رہی۔ کئی طلباء کا کہنا ہے کہ گھر بیٹھنے کی وجہ سے ان کی پڑھائی میں دلچسپی ختم ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ، ان کی پڑھائی کا بوجھ بھی کافی بڑھ گیا ہے۔  آن لائن کلاسز میں سنجیدگی کا عنصر پیدا نہیں ہوپاتا جس کی وجہ سے مزيد وقت ضائع ہوتا ہے۔  ”ڈیڑھ گھنٹے کی کلاس میں کام کی بات صرف 10 سے 15 منٹ کے لیے ہوتی ہے۔“ ان کے مطابق آدھے سے زیادہ طلباء کلاس میں شرکت نہيں کرتے، اور اس کی وجہ سے باوقی کے سٹوڈنس کی بھی پڑھاہی میں دل نہیں لگتا اور انکا دیھان بھی منتقل ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے بچے جو کہ خود کلاس نہیں لے سکتے انھے اور بچوں کو بہت مشکل پیش آتی ہے۔

آن لائن تعلیم کی فراہمی کی سب سے بڑی رکاوٹ انٹرنیٹ کی  کمی ہے جو کہ پر وقت ہر کسی کے پاس موجود نہیں ہوتا خاص کر کے ان طلباہ کے پاس جو کے دور اور آبایٰ علاقوں میں رہتے ہے۔  تیز رفتار انٹرنیٹ کنکشن تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹیوں کے لیے طلباء سے رابطہ کرنا اور ویڈيو کانفرنسنگ کے ذریعے کلاسز منعقد کرنا ناممکن ثابت ہوتا ہے۔  لہذا موجودہ صورتحال نے ہمیں اس بات کا احساس دلایا ہے کہ اب ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا ہو گا اور اپنی  ٹیکنالوجی  کو بہتربنانا ہو گا تا کہ دوسرے ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکے اور ایسی مشکل میں اپنے طلباہ کو بہتر سہو لیات میسر کر سکے کیونکہ آج وہ سکول کالج جو ڈیجیٹل کام میں پیچھے رہ گے انہیں آج اینے بچوں کو ان حالات میں مشکل پیش ٰآ رپی پے۔

  

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button