BUSINESS

پراپرٹی ٹرانسفر پر ٹیکسز اور اخراجات کی تفصیل ۔تحصیلدار پٹواری اراضی سنٹر کی کرپشن

پراپرٹی ٹرانسفر پر ٹیکسز اور اخراجات۔ محکمہ ریوینیو ، پٹواریوں کی کرپشن کی مکمل تفصیل ۔
How much taxes payable on transfer of property .
جاٸیداد ٹرانسفر پر خریدار کو مختلف قسم کے گورنمنٹ ٹیکسز ادا کرنے پڑتے ھیں جن کی شرح مختلف ادوار میں کم اور زیادہ ھوتی رھی ھے ۔
اس آرٹیکل میں اس موضوع پرتفصیلی روشنی ڈالی جاۓ گی ۔ قیام پاکستان کے بعد جاٸداد رجسٹری پر صرف محدود سٹیمپ ڈیوٹی ، سٹیمپ پیپرز کے ذریعے ادا کی جاتی تھی معہ 1% بلدیہ ٹیکس اور اسکے علاوہ کوٸی دیگر ٹیکس لاگو نہیں تھا لیکن بعد میں سٹیمپ ڈیوٹی کے ساتھ مختلف طرح کے دیگر ٹیکسز بھی وصول کٸےجانے لگے ۔

رجسٹری پرکچھ ٹیکسز فیڈرل گورنمنٹ نے وصول کرنا شروع کٸے ۔صوباٸی حکومت اور لوکل گورنمنٹ یعنی TMA میونسپل کمیٹی/ کارپوریشن/ میٹروپولیٹن اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے بھی پراپرٹی ٹرانسفر پر ٹیکسز عاٸد کردٸیے ۔

سال 2010 میں ایک نٸی قسم کا ٹیکس وفاقی گورنمنٹ نے یعنی کیپیٹل ویلیو ٹیکس بھی نافذ کر دیا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ صوبوں کو زیادہ خود مختاری دینے کے لٸے آٸین پاکستان میں 18ویں ترمیم کی گٸی جس کی رو سے بہت سے دیگر اختیارات و وساٸل صوباٸی حکومتوں کو منتقل کر دٸیے گٸے جو پہلے وفاقی حکومت کے پاس تھے ۔ اس ترمیم سے پراپرٹی منتقلی پر تمام ٹیکسز وصولی کا اختیار بھی پراونسز کو دے دیا گیا ۔
وفاقی حکومت کے لٸے آمدن کا بہت بڑا ذریعہ پراپرٹی ٹرانسفر سے وصول ھونیوالے ٹیکسز تھے ۔ محصولات کم ھونے پر وفاقی حکومت نے غیر آٸینی طور پر ٹرانسفر پر سی وی ٹی اور پھر ایف بی آر ڈیوٹی عاٸدکردی ۔

کیونکہ آٸینی طور پر صرف ایک طرح کا ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ھے مگر وفاقی حکومت نے اپنی آمدن کا بہانہ تراش لیا ۔

لیکن عوام پر پراپرٹی ٹرانسفر پراٹھنے والے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ھو گیا ۔ جو کہ 7 تا 8 پرسینٹ پر چلے گٸے جو کہ عوام کے لٸے برداشت کرنامشکل تھا جس سے پراپرٹی ٹرانسفر کے بزنس پر بھی بہت فرق پڑا اور حکومت کی ٹیکس ریوینیو کلیکشن بھی بہت کم ھو گٸی ۔

ایک سال پہلے 2020 میں حکومت کو اپنی غلط پلاننگ کا احساس ھوا تو سی وی ٹی ختم، ٹیکسز کو آدھا کر دیا گیا ۔
ٹرانسفر پر فنانس ایکٹ 2020 کے مطابق نٸی شرح اسطرح ھے ۔ 👇
یعنی1 % سٹیمپ ڈیوٹی ، ٹیکس فاٸلر کے لٸے 1% اور نان فاٸلر کے لٸے 2% ، ۔ 1% ٹی ایم اے ڈیوٹی
% ٹوٹل تین یا 4

مثلاً ٹرانسفر پر ایک لاکھ پراپرٹی مالیت پر ٹوٹل 3/4 ھزار روپے خرچہ آٸے گا ۔ 10 لاکھ مالیت جاٸیداد پر 30/ 40 ھزار خرچہ آٸے گا اسی نسبت سے مالیت کم و بیش ھونے سے ٹیکسز اداٸیگی بھی تبدیل ھوگی ۔

پراپرٹی ٹرانسفر پر 3 یا 4 % گورنمنٹ ٹیکسز لگتے ھیں مگر اسکے علاوہ محکمہ مال کو رشوت دٸیے بغیر رجسٹری نہیں ھو سکتی؟ پٹواری لاکھوں روپے میں فرد جاری کرتا ھے کمپیوٹراٸیزڈ اراضی سنٹرز والے بھی کرپشن و رشوت سے اپنے ھاتھ رنگتے ھیں ۔ کبھی کبھی رنگے ھاتھوں پکڑے بھی جاتے ھیں اور بعد می زیادہ تر عدالتوں سے بری بھی ھو جاتے ھیں ۔
پراپرٹی ٹرانسفر میں تحصیلدار اور دیگران کی غضبناک کرپشن کے ھوشربا حقائق اور قانونی چارہ جوٸی ۔ 👇 یوٹیوب لنک ۔
https://youtu.be/AHqH6dg8Yqg ۔

تحصیلدار منیر خان کی کرپشن پر نیوز رپورٹ ۔👇
https://www.facebook.com/groups/jhelumforum/permalink/412928406550658/

Author … Arif karim advocate supreme court . 03225881820 .

I am an advocate supreme court of pakistan for 28 years .Besides profession, i love to write down blogs on multiple topics .

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button