عوام کی آواز

زیادہ سوچنا کیوں؟؟؟

 

  • زیادہ سوچناقطعًا بھی کوئی بُرا یا غلط کام نہیں ہے اصل مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ کی سوچیں کہیں جاکر پھنس جاتی ہیں .اور پھر آپ کسی سے مدد (انسان یا فطرت) بھی نہیں مانگتے ہیں۔ عام طور اس طرح کا رویہ عموماً اُن لوگوں میں پایا جاسکتا ہے. جو اپنے آپ کو ایک “مطلق انسان” سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ دراصل مطلق انسان وہ ہوتا ہے جو اپنی انا یعنی “میں” کے فولادی خول میں بند ہو جاتا ہے جس کے بعد کسی سے مدد مانگنا، چاہے وہ انسانوں سے مانگے یا پھر فطرت سے، اُس کے لیے موت جیسی لگنے لگتی ہے۔ 

  • اب وہ مطلق انسان اپنی “میں” میں سے نکل نہیں سکتا ہے اور دوسروں سے (انسان یا فطرت) مدد بھی نہیں مانگ سکتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک بند گلی میں پاتا ہے جہاں سے نکلنے کا واحد راستہ زندگی سے آزاد ہونا ہی اُسے سمجھ میں آتا ہے جس میں وہ کافی کشمکش میں سے گزرتے ہوے آخرکار وہ یہی فیصلہ کرتا ہے کہ اُس نے خود سے کوئی مدد نہیں مانگنی ہے لیکن اگر کوئی دوسرا اپنے طور پر مدد کرنے آ جاۓ تو وہ مدد لے لے گا مگر جب وہ کسی سوچ/معاملے میں پھنس جاتا ہے اور وہ خود سے کسی سے مدد نہیں مانگتا ہے اور کسی دوسرے کی مدد بھی نہیں پہنچتی ہے تو وہ آخر کار اپنے آپ سے لڑتے لڑتے اور کسی کا انتظار کرتے کرتے تھک جاتا ہے اور پھر وہی کرتا ہے کہ جو ہم جانتے ہیں یعنی وہ اپنے آپ کو زندگی سے آزاد کرنے کی کوشش کرسکتا ہے یا کر لیتا ہے۔

I am a freelancer and working as content writer.I am also a professional translator and data scrapper.

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
نوٹ: اگر آپ اپنی پروڈکٹس،سروسز یا آفرزکا مفت اشتہار لگوانا چاہتے ہیں تو نیوزفلیکس ٹیم، عوام تک آپ کا پیغام پہنچانےکا موقع فراہم کر رہی ہے. شکریہ_ اپنا پیغام یہاں لکھیں
error: Content is protected !!

Adblocker Detected

Note: Turn Off the AdBlocker For this Site