افسانے

گڑیا

گڑیا
یہ ان دنوں کی بات ہے جب تیس سال کی سروس کے بعد میں اپنے آبائی گھر لوٹ آیا تھا ۔ لاہور صرف میری جائے پیدںئش ہی نہیں میرا دل میری جان بھی ہے۔ میرا گھر لارنس گارڈن سے دس منٹ کی پیدل مسافت پر ہے۔ انگریزوں کے زمانے کے اس پارک کی شان پاکستان میں پائے جانے والے تمام پارکوں سے زیادہ ہے اور میرے دل میں اسکی محبت بھی کچھ زیادہ ہے.

میرا معمول ہے کہ میں روزانہ صبح فجر پڑھ کر میں مسجد سے ہی پارک کی طرف نکل جاتا ہوں ۔ پارک کے اندر ترت مراد کا مزار واقع ہے۔ میں روز وہاں فاتحہ پڑھتا اور ایک لمبا راونڈ کاٹ کر پہاڑی پر چڑھ جاتا ہوں.لاہور کے باسی اچھی طرح جانتے ہونگےکہ اس پارک میں دو پہاڑیاں ہیں جو گھنے اور بوڑھے درختوں سے لدی ہوئی ہیں ۔جس پہاڑی پر میں جاتا ہوں اس کے بیچوں بیچ برگد کا ایک نہایت بوڑھا اور بےحد گھنا چھتنار درخت ہے۔جس کی لمبی شاخیں ہر طرف پھیل کر سایہ کیے رکھتی ہیں۔ وہیں ایک بینچ پر بیٹھ کر میں اپنے تھکے ہوئے جسم کو کچھ دیر آرام دیا کرتا ہوں۔ لمبی لمبی سانسوں میں تازہ آکسیجن کو اپنے اندر اتارنا مجھے اچھا لگتا ہے پھر جب سورج کی نرم گرم دھوپ ہر طرف پھیلنے لگتی ہےتو میں بھی گھر لوٹ آتا ہوں۔

کافی عرصے سے میری یہ روٹین جاری ہے۔ اس دن بھی میں حسب معمول پہاڑی پر جا پہنچا تھاپر ایک غیر محسوس حرکت سی محسوس کر کے انہیں قدموں رک گیا۔ سرخ میلے کچیلے لباس پر سبز ملگجی چادراوڑھے وہ ایک گیارہ بارہ سالہ لڑکی تھی جو ڈھلوان کی طرف اگی بڑی بڑی جھاڑیوں میں کچھ تلاش کر رہی تھی ۔ وہ اپنے کام میں ایسی مگن تھی کہ اسے پتہ بھی نہ چلا اور میں اسکے سر پر پہنچ گیا میلا کچیلا وجود اور بکھرے بال مجھے یہ جاننے میں دیر نہ لگی کہ وہ کوئی بھکاری بچی تھی ۔ چند لمحوں میں وہ ایک باربی ٹائپ پرانی سی گڑیا ہاتھ میں لیے پلٹی پر مجھے دیکھ کر ٹھٹھک گئی اور غیر ارادی طور پرہاتھ پیچھے کرلیے .
” کیا چھپا رہی ہو” .
میں نے ذرا غصے سے پوچھا۔ پہلے تو وہ کچھ ڈرسی گئی پر جلد ہی سنبھل بھی گئی .
“تمھیں کیا ہے میری چیز ہے “.
یہ کہتے ساتھ ہی ااسنے میرے برابر سے نکل کر بھاگنے کی کوشش کی پر میں نے سرعت سے اسکا بازو پکڑ کر روک لیا
” دکھاو مجھے کیا چھپا رہی ہو “.
اسنے خود کو میری سخت گرفت سے چھڑانے کی کوشش کی. ” چھوڑو مجھے چھوڑو چھوڑو ”
تھی تو وہ بچی پر خاصی جاندار تھی۔ اسے قابو کرنے میں میں ہلکان سا ہو گیا اور پھر ایک کرارا سا تھپڑ اسکے گال پر جڑ دیا ۔تھپڑ کھا کر وہ سہم کر سن سی ہوگئی تھی ۔

” شرم نہیں آتی لوگوں کی چیزیں چراتی ہو. ”
وہ چپ رہی.میں نے گڑیا اسکے ہاتھ سے چھین لی.وہ ایک پرانی سی گڑیا تھی جو شاید پارک میں آنیوالی کوئی بچی اپنے ساتھ لے آئی ہوگی .
“کیوں چرائی تم نے کسی بچی کی گڑیا.”
میں نے اسکے چہرے پر نظر ڈالی تو وہاں آنسووں کی دو لکیریں کھنچ رہی تھیں۔
“چرائی نہیں ہے پڑی ہوئی ملی تھی. شانو اور کاکو مجھ سے چھین نہ لیں اس لیے یہاں چھپا دی تھی.”
اسنے رندھی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ اسے دیکھ کر میرے دل کو دھکا سا لگا.کیوں تھپڑ دے مارا صرف ڈانٹ سے بھی کام چل جاتا.
“بنا اجازت کسی کی چیز اٹھانا کوئی اچھی بات تھوڑی ہے.”
اب کے میرا لہجہ کچھ نرم تھا
“میں نہ اٹھاتی کوئی اور بھکاری اٹھالیتا جس کی ہے اسے تو پھر بھی نہ ملتی .اور ہمیں کسی نے کونسا خرید کر دینی ہوتی ہےپڑی ہوئی چیزوں اور بچے ہوئے کھانوں سے ہی تو مزہ کرتے ہیں ہم.”

اسکی بات سن کر میرا دل دھک سے رہ گیا.کربناک سچ بول ریی تھی وہ. میں نے آج تک کسی بھکاری یا فقیر کو کچھ خرید کر کھاتے نہیں دیکھا تھا. اسکے بازو پر میری گرفت ڈھیلی پڑ گئی. اسنے جھٹکے سے بازو چھڑایا اور بھاگتے ہوئے پہاڑی سے نیچےاتر گئی.اسکے بعد مجھ سے وہاں رکا نہ گیا اور ملول سی طبیعت لیے گھر لوٹ آیا ۔وہ گڑیا بھی میرے ہاتھوں میں میرے ساتھ ہی آگئی تھی ۔ریٹائرمنٹ کے بعد میں نے اردو بازار میں دکان کر لی تھی ۔کتابیں پڑھنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔اس دکان کی بدولت میرا روزگار اور شوق دونوں چل رہے تھے۔ صبح اس بچی کو تھپڑ مارنے کی وجہ سے سارا دن دل پر ایک بوجھ سا دھرا رہا .
اگلے دن پھر صبح کی روٹین کے مطابق میں واک کرتا لارنس گارڈن چلا گیا ۔ترت مراد کے مزار پر فاتحہ پڑھ رہا تھا تبھی وہی بچی مجھے مزار کے ایک طرف کھڑی نظر آئی ۔میں نے اسے اشارے سے قریب بلایا خلاف توقع وہ آبھی گئی.
” آج پھر کچھ چھپا یا ہے “.
اسنے نفی میں سر ہلایا
” پھر اتنی صبح صبح یہاں کیا کر رہی ہو ”
کچھ دیر چپ رہنے کے بعد وہ بولی
“تم سے ملنے آئی تھی”
میں نے تعجب سے اسے دیکھا تھپڑ کھانے کے بعد بھلا وہ مجھ سے ملنے کیوں ائی تھی.
“صاحب وہ گڑیا مجھے دے دو.تمھارے تو کسی کام کی نہیں”.
اس بچی کا شاید اس گڑیا پر دل آگیا تھا ۔ میں نے اسے دیکھا اور پلٹ کر پہاڑی کی طرف چل دیا ۔ وہ بھی میرے پیچھے پیچھے انے لگی اور ایک ہی رٹ مسلسل لگائے رکھی .
” صاحب گڑیا دے دو نہ ،صاحب گڑیا دے دو ”
اس مختصر سے سفر میں میں کچھ سوچ چکا تھا ۔پہاڑی پر پہنچ کر میں اپنی مخصوص جگہ پر جا بیٹھا اور اسے بھی اپنے قرہب بیٹھنے کا اشارہ کیا پر وہ سنی ان سنی کرتی کھڑی رہی .خاصی اکھڑ مزاج بچی تھی .
“گڑیا چاہیے تمھیں”.

اسنے اثبات میں سر ہلایا.میں نے جیب سے گڑیا نکالی جو میں اپنے ساتھ یہ سوچ کر لے آیا تھا کہ واپس انہیں جھاڑیوں میں پھینک دونگا شاید وہ پھر اکر لے جائے.گڑیا دیکھ کر اسکی آنکھوں میں ایک چمک سی آگئی اور وہ بےساختہ گڑیا کی طرف لپکی.پر میں نے گڑیا پھر جیب میں رکھ لی.
” اگر گڑیا لینی ہے تو پھر ایک شرط ہے. تمہیں کچھ دنوں تک وہ کرنا ہوگا جو میں تمہیں کرنے کے لیے کہوں”.
اسنے حیرت سے مجھے دیکھا پھر ایک عجب نفرت سی اسکی آنکھوں میں ابھری نہ جانے وہ کیا سمجھی تھی۔
“کیا کام ہے”.
“یہ میں کل بتاونگا.کل اسی وقت اجانا .چلو اب جاو یہاں سے”.
پر وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئی.میں اسے جانے کے لیے کہتا رہا اور وہ گڑیا گڑیا کرتی رہی. میں جانتا تھا بھکاری قوم اتنی آسانی سے جان نہیں چھوڑتی اس لیے میں خود ہی وہاں سے اٹھ آیا .
اگلے دن جب میں پہاڑی پر پہنچاتو وہ وہاں موجود تھی۔ جانے وہ گڑیا کی طلب میں ہی ائی تھی یا اس کام کے تجسس میں جو میں اسے کہنے والا تھا۔ میں وہاں بیٹھا تو وہ میرے پاس آکھڑی ہوئی. تبھی میں نے اپنی جیب سے آ ب پ والا قاعدہ نکالا.میں نے اسے وہ پڑھنے کے لیے کہا پر وہ برے برے منہ بنانے لگی.
” صاحب گڑیا دے دو نہ ”
” جس دن تم یہ قاعدہ پڑھ لوگی اس دن یہ گڑیا تمھاری”.
“چھوڑو نہ صاحب گڑیا دے دو”
اسنے رٹ لگائے رکھی اور میں مسلسل اسے پڑھنے کے لیے کہتا رہا۔ مارے باندھے اسنے ایک دو لفظ پڑھے پھر اٹھ کر چلی گئی.اگلے دن میرا خیال تھا وہ نہیں آئے گی پر وہ موجود تھی اور اس دن وہ بلا حیل وحجت پڑھنے پر راضی بھی ہوگئی تھی ۔میں نے نوٹ کیا وہ بلا کی ذہین تھی اور کچھ چیزوں کی اسے پہلے سے پہچان بھی تھی ۔ جس طرح اسنے بات مان کر پڑھا مجھے دلی خوشی اور سکون محسوس ہوا.

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ علم کا بھی حق ہوتا ہے اور وہ حق علم دوسروں تک پہنچا کر ہی ادا ہوسکتا ہے.جس دن اسکا قاعدہ ختم ہوا میں پہلی جماعت کی اردو کی کتاب لے ایا اور اس سے کہا کہ یا تو گڑیا لے لو یا پھر یہ کتاب شروع کرو.اسکے ختم ہونے پر میں تمہیں بالکل ایسی ہی نئی گڑیا لادوں گا .وہ تذبذب میں پڑ گئی پر جلد ہی اسکے دل نے فیصلہ کر لیا اور اسنے کتاب پر ہاتھ رکھ دیا. بس پھر تو سلسلہ شروع ہوگیا ۔اسنے کتنی ہی کتابیں پڑھ ڈالیں ہر کتاب ختم ہونے پر میں اس سے پوچھتا کہ گڑیا لینی ہے یا کتاب تو وہ کتاب مانگتی.پر میں پھر بھی اسکے لیے ایک نئی گڑیا خرید لایا تھا کہ نجانے کب اسکے اندر چھپی گڑیا کی طلب جاگ اٹھے.
پر اچانک ایک دن وہ کہیں غائب ہوگئی.میں کئی دن انتظار کرتا رہا پر وہ نہیں آئی

میں نے اسکے ساتھ آنیوالے بھکاری بچوں سے بھی پوچھا پر کسی نے کچھ نہیں بتایا نجانے کیوں میرا دل کہہ رہا تھا کہ اسکے ماں باپ نے اسے آگے کہیں بیچ دیا ہے .ہر روز پارک سے واپس آکر میں وہ گڑیا دیکھتا جس کی تلاش میں وہ مجھے ملی تھی ۔میرا دل دکھ سا جاتا کہ کاش میں نے وہ گڑیا اسے دے دی ہوتی تو اسکے دل میں حسرت نہ رہتی پر پھر یہ سوچ کر دل میں ایک اطمینان سا بھی اتر آتا کہ میں نے جو اسے دے دیا تھا وہ یقینا اس گڑیا کے مقابلے میں ایک انمول چیز تھی ۔یہ گڑیا تو زیادہ عرصہ اسکے ساتھ نہ رہتی پر وہ علم جو اسکے اندر اتر گیا تھا مرتے دم تک اسکے ساتھ رہے گا اور زندگی میں قدم قدم پر اسے فائدہ ہی پہنچائے گا.

از

کرن نعمان

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!