PROPERTY

Get to Know All About Token and Bayana

ٹوکن اور بیعانہ کے بارے میں سب جانیں۔

پراپرٹی کے مالک ہونے کے بہت سارے فوائد ہیں۔ آپ یا تو اپنے گھر میں رہ سکتے ہیں ، اسے کرایہ پر دے سکتے ہیں یا اسے فروخت کر سکتے ہیں جب آپ کو کوئی منافع بخش سودا نظر آئے۔ اگر آپ پراپرٹی بیچنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو آپ کو پہلے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو دیکھنا چاہیے۔ اپنی تحقیق کریں اور اپنی جائیداد کی قیمت معلوم کریں۔

اس گائیڈ میں یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ اپنی قیمت مارکیٹ ریٹ سے تھوڑی زیادہ مقرر کریں۔ جب کوئی جائیداد کا مالک ہوتا ہے تو وہ بنیادی طور پر جائیداد کے عنوان کے مالک ہوتے ہیں۔ اگر آپ جائیداد کو منتقل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ جائیداد کا عنوان کسی اور کو دیا جائے۔ اس کا مطلب ہمیشہ جائیداد بیچنا نہیں ہے۔ یہ تحفہ ، رہن یا لیز ہو سکتا ہے۔
اب ، جائیداد کی منتقلی کا اہل کون ہے؟ جواب سادہ ساہے۔ جو بھی قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) رکھنے کے لیے مطلوبہ عمر کا ہو گا ،18 سال اور اس سے زیادہ وہی منتقلی کا اہل بھی ہو سکتا ہے. پاکستان میں جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے بھی مختلف قوانین ہیں۔ اب ہم ٹوکن منی اور بیعانہ کے تصورات پر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔

ٹوکن۔

ٹوکن منی کیا ہے؟ ٹوکن ایک چھوٹی سی رقم ہے جسے خریدار کو پراپرٹی خریدنے کے سنجیدہ ارادے کے اشارے کے طور پر ادا کرنا پڑتا ہے۔ فروخت کی قیمت کے بارے میں خریدار اور بیچنے والے کے باہمی معاہدے پر ٹوکن کی رقم ادا کی جاتی ہے۔ زیادہ تر معاملات میں ، معاہدہ ایک ایجنٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے ، جو بیچنے والے کے تصدیق شدہ رابطے کی تفصیلات رکھتا ہے۔اگر آپ کسی ایسے ایجنٹ کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں جو متعلقہ سوسائٹی میں رجسٹرڈ ہے جہاں پراپرٹی واقع ہے تو معاہدے کی تفصیلات ایجنٹ کے لیٹر ہیڈ پر لکھی جاتی ہیں۔ اس میں ٹوکن کی رقم ، خریدار کا نام ، پلاٹ نمبر ، نام ، پراپرٹی کا سائز اور قیمت ، اور ٹائم فریم کے بارے میں معلومات شامل ہیں جس میں خریدار کو بقیہ ادائیگی کرنا ہوگی۔ اب ، اگلا سوال جو آپ پوچھ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ کیا ٹوکن منی قابل واپسی ہے یا نہیں؟

ٹوکن کی دو اقسام ہیں

نمبر1:مشروط ٹوکن
نمبر2: تصدیق شدہ ٹوکن۔

مشروط ٹوکن۔

نرم شرائط و ضوابط پر دیا اور موصول ہونے والا ٹوکن ایک مشروط ٹوکن ہے۔ جب کوئی خریدار کسی خاص جائیداد کے حصول کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ 25،000 روپے سے لے کر 100،000 روپے تک کی چھوٹی رقم پیش کرتے ہیں۔ اگر ، کسی وجہ سے ، معاہدہ ختم ہوجاتا ہے تو ، کوئی جرمانہ نہیں ہوتا اور وہی رقم خریدار کو واپس کردی جاتی ہے۔مشروط ٹوکن کی رقم ادا کرنے کے بعد ، خریدار متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹی سے جائیداد کی ملکیت کی تصدیق کر سکتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ بیچنے والا اصل مالک ہے۔ اس مرحلے کے لیے ، بیچنے والا اجازت دیتا ہے تحریری طور پر ، جو متعلقہ اتھارٹی کو خریدار کے ساتھ ملکیت کی تفصیلات اور قانونی حیثیت کا اشتراک کرنے کی اجازت دیتا ہے ، جس کا نام اور شناختی کارڈ نمبر بھی درخواست پر درج ہے۔ پلاٹ کے مالک کے شناختی کارڈ کی ایک کاپی درخواست کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔

تصدیق شدہ ٹوکن۔

دستاویزی ٹوکن منی ، جس میں خریدار ، بیچنے والے اور ایجنٹ کے درمیان شرائط و ضوابط باہمی طور پر طے کی جاتی ہیں (اگر کوئی ایجنٹ ثالثی کرتا ہے) ، توثیقی ٹوکن کہلاتا ہے۔ اس معاہدے میں شرائط شامل ہیں جیسے ٹائم فریم جس میں بیعانہ کی ادائیگی کی ضرورت ہو ، جائیداد کی فروخت کی قیمت اور فریقوں میں سے کسی ایک کے پیچھے ہٹنے کی صورت میں جرمانہ دینا پڑتا ہے۔ اگر خریدار بیعانہ کی آخری تاریخ کو پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے ، تو وہ اپنی ٹوکن کی رقم کھو دیتا ہے۔ اگر بیچنے والا معاہدے سے پیچھے ہٹ جاتا ہے ، تو وہ قانونی طور پر خریدار کو ٹوکن رقم کی دوگنی رقم ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ اگر خریدار ایک یا دو ہفتے کے اندر اندر جائیداد خریدنے کی پوزیشن میں ہے ، تو تصدیق شدہ ٹوکن بھی بیانا کے طور پر کام کرتا ہے۔ تصدیق شدہ ٹوکن عام طور پر مشروط ٹوکن سے زیادہ اور بیعانہ سے کم ہوتا ہے۔ لہذا ، ایک بار جب ٹوکن کی رقم ادا ہوجائے تو ، بیعانہ اگلا مرحلہ ہے۔ یہ صرف ٹوکن پیسے کی طرح ہے ، صرف یہ کہ یہ سرکاری طور پر لکھا اور دستخط کیا گیاہوتا ہے۔

بیعانہ۔

بیعانہ ایک باضابطہ معاہدہ ہے جو اسٹامپ پیپر پر لکھا جاتا ہے جس میں خریدار اور بیچنے والے دونوں کی طرف سے متعلقہ شرائط ہوتی ہیں۔ یہ عام طور پر ٹوکن کی رقم کے ایک ہفتے بعد ادا کیا جاتا ہے۔ شرائط میں پراپرٹی کی منتقلی اور بقیہ رقم کی ادائیگی کا ٹائم فریم شامل ہے ، جو اکثر 10 سے 30 دن کے درمیان ہوتا ہے لیکن اس سے زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔مثال کے طور پر ، بیعانہ کی رقم کل قیمت کا ایک چوتھائی ہونا چاہیے۔ بقیہ رقم کو ادا کرنے کے لیے جتنا زیادہ ٹائم فریم ہوگا ، اتنا ہی زیادہ بیعانہ ہوگا۔ اس وقت کے دوران ، بیچنے والا نو ڈیمانڈ سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دیتا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ متعلقہ ہاؤسنگ اتھارٹی کی طرف سے دونوں فریقوں کی موجودگی میں دیا جاتا ہے۔ پراپرٹی کو فوری طور پر منتقل کیا جاتا ہے اور بیچنے والے کو بینک ڈرافٹ مل جاتا ہے۔اگر بیانا کے اختتام پر کچھ مسائل کی وجہ سے سودا طے ہو جاتا ہے تو ، وہ قانونی طور پر بیعانہ کی رقم دوگنا جرمانہ ادا کرنے کے پابند ہیں۔ اگر خریدار پیچھے ہٹ جاتا ہے تو ، وہ بیعانہ کی رقم کھو دیتا ہے۔

مشہور ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور بیچنے والوں کے لیے حفاظتی اقدامات۔
ڈی ایچ اے کراچی ایک مشہور ہاؤسنگ سوسائٹی ہے۔ یہ فروخت کنندگان کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ معاہدے میں ایک خاص شق شامل کریں جس کے مطابق اگر خریدار مقررہ تاریخ کے اندر بیلنس کی ادائیگی کرنے میں ناکام رہتا ہے تو بیچنے والا پیشگی رقم ضبط کر سکتا ہے۔ اسی طرح ، اگر بیچنے والا جائیداد کی منتقلی سے انکار کرتا ہے ، تو وہ وصول شدہ ایڈوانس (بیعانہ) کا دوگنا واپس کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔

ڈی ایچ اے کراچی کے رہنما خطوط کے مطابق ، یہاں تک کہ اگر بیچنے والے ڈی ایچ اے کے نامزد افسر کے سامنے معاہدے پر دستخط کرتے ہیں ، تب تک وہ جائیداد کے مالک ہوتے ہیں جب تک کہ دستاویزات سرکاری طور پر منتقل نہ ہوں۔ خریدار کے ساتھ تنازعہ کی صورت میں ، پراپرٹی کو مخصوص مدت کے اندر آپ کے نام پر دوبارہ تصدیق کی جا سکتی ہے۔ تاہم ، آپ جائیداد پر دعوی نہیں کر سکتے ، ایک بار جب آپ نے دستاویزات خریدار کو منتقل کر دی ہیں۔

Get to Know All About Token and Bayana

Owning a property incorporates a lot of perks. You’ll either live in the house, rent it out or sell it once you see a profitable deal. If you’re aiming to sell property, you must first have a look at the important estate market. Do your research and know the worth of your property.

It is recommended to set your price a bit higher than the market rate. When someone is that the owner of a property, they basically own the title of the property. If you would like to transfer property, it basically means to convey the title of the property to some other person. It doesn’t always mean selling the property. It may be a present, mortgage, or lease. Now, who is eligible to transfer property? the solution is easy. Whoever is the right age to own a national identity card (CNIC) — 18 years and above. There also are different laws for getting and selling property in Pakistan. We shall now discuss very well the concepts of token money and Bayana.
Token

So, what is token money?

The token is a touch of cash that must be paid by the customer as an indication of great intent to get a property. token money is paid on mutual agreement between the client and seller about the asking price. In most cases, the deal is facilitated by an agent, who possesses the verified contact details of the vendor.

If you’re managing an agent who is registered with the respective society where a property is found, the agreement details are written on the agent’s letterhead. This includes information about the money, the name of the client, plot number, name, the dimensions and price of the property, and therefore the timeframe during which the customer should make the remaining payment. Now, the following question you will ask is whether or not token money is refundable or not?

There are two types of tokens:

  1. Conditional Token
  2. Confirmed Token

Conditional Token

The token given and received on soft terms and conditions is a conditional token. When a buyer decides to acquire a particular property, they provide a tiny low amount starting from PKR 25,000 to PKR 100,000. If for a few reasons, the deal falls through, there’s no penalty and therefore the same amount is returned to the client.

After paying the conditional token amount, the customer then can verify the ownership of the property from the respective housing society to form sure the vendor is that the actual owner. For this step, the vendor grants permission in writing, which allows the respective authority to share the ownership details and legal status with the customer, whose name and CNIC number are additionally mentioned on the appliance. a duplicate of the plot owner’s CNIC is attached to the applying.

Confirmed token

Documented token money, during which the terms and conditions are mutually set between the client, seller, and therefore the agent (if there’s an agent mediating), is named the confirmed token. This agreement includes terms like the time frame during which the Bayana must be paid, the asking price of the property, and therefore the penalty just in case one in all the parties backs out. If the client fails to fulfill the Bayana deadline, he loses his token money; if the vendor backs out from the deal, he’s legally sure to pay double the number of the token money to the customer.

If the client is in a position to buy the property at hand within per week or two, the confirmed token also acts because of the Bayana. The confirmed token is typically an amount more than the conditional token and less than the Bayana. So, once the token amount is paid, Bayana is that the next step. It’s similar to the money, only that it’s officially written and signed.

Bayana

Bayana is a formal agreement written on stamp paper with related conditions set by both the customer and therefore the seller. it’s usually paid one week after the token money. Terms include the time frame for the property transfer and also the payment of the remaining amount, which is commonly between 10 to 30 days but maybe more.

Ideally, the Bayana amount should be one-fourth of the overall price. The longer the timeframe to clear the remaining amount, the higher the Bayana. During this point, the vendor applies for the No Demand Certificate (NDC). This certificate is given by the respective housing authority in the presence of both parties. The property is transferred straight away and therefore the seller receives the bank draft.

If the deal falls through after the Bayana because of some problems on the seller’s end, they’re legally guaranteed to pay double the Bayana amount as a penalty. If the client backs out, they lose the Bayana amount.

Popular housing societies and security measures for sellers
DHA Karachi is a popular housing society. It recommends sellers incorporate a special clause within the agreement in step with which if the client fails to form the balance payment within the maturity date, then the vendor can confiscate the advance money. In the same way, if the vendor refuses to transfer the property, then they’re going to be vulnerable to return double of the advance (Bayana) received.

As per DHA Karachi’s guidelines, whether or not sellers sign the agreement ahead of DHA’s designated officer, they own the property unless documents are officially transferred. just in case of a dispute with the client, the property can again be revalidated in your name within the required period. However, you’ll not claim over the property, once you have got transferred the documents to the customer. For more details, you’ll also take a glance at the way to sell and buy property in Pakistan.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button