BUSINESS

بے روزگار یا کم آمدنی والے کس طرح اپنی معاشی تنگی کو دور یا کم کر سکتے ہیں

بے روزگار لوگ :ـ
جن کی کمائی کا کوئی ذریعہ نہ ہو، ان کے لیے دورِ حاضر میں ‘فنی تعلیم’ ایک اچھی ابتدا ہے- یہ کسی حد تک ارزاں بھی ہے اور آسان بھی- اس کو ہر خاص و عام حاصل کر سکتا ہے، چاہے وہ امیر ہو یا غریب- سرکار بھی مفت میں جوانوں کو فنی تعلیم دے رہی ہے- جس میں انھیں ماہانہ معاوضہ دیا جاتا ہے اور اچھے نمبروں سے پاس ہونے پر انعام کے طور پر ملازمت بھی دی جاتی ہے- اگر سرکاری ادارے کی بجائے کسی غیر سرکاری ادارے سے بھی فنی تعلیم کی سند حاصل کی جائے تو بھی غیر فنی تعلیم کے مقابلے میں سرکاری اور غیر سرکاری جگہوں پر ملازمت کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں- سفارش ہو تو سونے پر سہاگہ ہے-

سول، الیکٹریکل، الیکٹرونکس، کیمیکل، مکینیکل، کمپیوٹر ہارڈ ویئر یا سوفٹ ویئر، ٹیکسٹائل یا گرافکس ڈیزائننگ وغیرہ فنی تعلیم کے ڈپلومے اور شارٹ کورسز ہیں- ان کی مدد سے بندے میں زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت اپنے ہاتھ سے کام کرنے کا طریقہ آ جاتا ہے- کام کوئی بھی ہو، وقت کے ساتھ ساتھ اس کام میں مہارت بڑھتی جاتی ہے اور کام کرنے والا اپنے کام میں کاری گر بن جاتا ہے- جبکہ عموماً غیر فنی تعلیم لینے والوں کے ہاتھ کھلے نہیں ہوتے-کچھ لوگ قابل تو نہیں ہوتے مگر ان میں یہ قابلیت ہوتی ہے کہ دوسروں کے سامنے قابل ہی بن کر دکھاتے ہیں- اور کچھ لوگ قابل بھی ہوتے ہیں مگر ان میں یہ قابلیت نہیں ہوتی کہ اپنا آپ دوسروں کے سامنے دکھا سکیں- دنیا میں ویسے تو سینکڑوں پیشے ہیں مگر انسان کو اپنے مطلب کے پیشے سے ہی تعلق رکھنا چاہیے- اگر موجودہ حالات میں مطلب کے پیشے سے روزی کمانا مشکل ہے تو صیح وقت کا انتظار کر کے دوسرے پیشے سے گزارہ کر لیا جائے کہ اس میں حکمت ہے اور یہی عمل بہتر ہے- اور جب سال دو سال بعد اپنے پیڑوں پر کھڑے ہو جائیں تو مطلب کا پیشہ اختیار کرلیں-

اگر آپ اچھی تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تو کوئی ذاتی کام شروع کرلیں- جس کے آغاز میں کم سے کم سرمایہ کاری کریں- باقی اللہ تعالی برکت ڈالنے والا ہیں- جنھوں نے نو حصے رزق تجارت میں اور ایک حصہ نوکری اور باقی شعبوں میں رکھا ہے- اگر آپ کی سوچ منفرد ہوئی تو آپ کو ذاتی کام میں ترقی کرنے میں اتنی دقت نہیں ہوگی، جتنی کہ ایک کاروباری شخص کو رواجی کاروبار میں ہوتی ہے- عام دستور سے ہٹ کر کام کرنے کے لیے دماغ بھی تیز ہونا چاہیے- جس طرح بوتل اور پان کی دکانوں کی بجائے اب میزوں پر لڈو اور شطرنج کی کھیل لگائے چائے کیفے عام ہو رہے ہیں- اس کے علاوہ کسی ویب سائٹ پر لکھ کر یا ویڈیو لاگ بنا کر کمائی کی جا سکتی ہے-

کم آمدنی والے لوگ :ـ
ایمانداری، محنت اور لگن سے اپنا کام کرتے رہیں- ایک نہ ایک دن وقت بدل ہی جاتا ہے مگر وقت بدلنے میں بھی وقت درکار ہوتا ہے- مثل ہے کہ بارہ برس بعد کوڑے کے دن بھی پھرتے ہیں- غریبوں سے محبت بھی کی جائے اور امیروں سے کسی قسم کا ذاتی بغض بھی نہ رکھا جائے-

؎ یہ زیست اپنے اصولوں پہ ہی بسر کی ہے
مٹے نہ بھوک تو میں ان کو بیچ کھاتا ہوں

نوکر کیا اور نخرہ کیا- نوکری خالہ جی کا گھر نہیں- جب بھی کوئی کام کرنے لگیں یا پہلے سے کر رہے ہوں تو آپ میں غرور نہیں کرنا چاہیے- کام دونوں طرح سے ہی ممکن ہے چاہے رو دھو کر لو یا ہنس مسکراکر کر- کام کرنا تو پڑے گا ہی- چھوٹے سے پرندے کی بھی کوشش ہوتی کہ کسی طرح کسی بڑٰی چیز پر جھپٹ پڑے- مگر وہ صبر نہیں کرتا- بچوں کی حفاظت ان کی اپنی ماں ہی نے کرنی ہے کوئی باہر سے آکر نہیں ممتا جگانے لگا- رازق بے شک اللہ ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیا جائے- کوئی نیا کام کریں تو دوسروں سے بس داد نہیں لینی بلکہ روپے بھی وصول کرنے ہیں- یہ آپ کا حق ہے اور دوسروں کو بھی چاہیے کہ حق نہ ماریں-

اب بھی گھروں میں عورتیں کپڑے سلائی کرنا، کپڑوں کے تھانوں پر سے دھاگے توڑنا، کروشیے سے جرسی سویٹر بننا، کھڈیوں پر صفیں بنانا، اڈوں پر تارے موتیوں کے کام وغیرہ کرتی ہیں- چوزے سے مرغی اور مرغی سے انڈہ، اور انڈہ بیچ کر بھی پیسے کمائے جا سکتے ہیں- اس کے علاوہ عورتیں چکلوں پر جا کر بھی اچھی خاصی کمائی کر سکتی ہیں- مگر ان پیشہ ور عورتوں کو ہمارا معاشرہ برا جانتا ہے اور ہمارے اسلام میں بھی اس کی مذمت کی گئی ہے- بجائے اپنے آپ کے اور اپنی قسمت کو کوسنے کے رزقِ حلال کمایا جائے- کوئی شک نہیں کہ اس میں محنت زیادہ کرنی پڑتی ہے- جتنی محنت زیادہ ہوگیی، اتنا رزق بھی پاک ہوگا- جن کی گائے بھینسیں ہوں، وہ گھر بیٹھے دودھ بیچ کر یا پھر گھر گھر جا کر سپلائی کر کے گھر بیٹھے دودھ بیچنے سے زیادہ اور گوبر کو اندھن کے طور پر فروخت کر بھی روپے کماتے ہیں- کوئی دکان خرید کر بھی کرائے پر دی جا سکتی ہے- گھر کے تمام افراد کو مل جل کر کام کرنا چاہیے- اگر گھر کا اکیلا فرد کام کرے گا تو سارا بوجھ اس پر آ جائے گا اور اگر گھر کے تمام افراد علاحدہ علاحدہ کام کاج کریں گے تو برکت رہے گی نہ بچت-

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button