اسلامک

“یار بد” “مار بد”

دنیا کی معمولی سی لذتوں یا چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کی خاطر گناہوں کا مرتکب ہو جانا بہت نقصان کی بات ہے عام طور پر بندہ تو لذت کی خاطر گناہ کرتا ہے یا ضرورت کی خاطر گناہ کا ارتکاب کرتا ہے امام غزالی فرماتے ہیں کہ عالم شخص وہ ہوتا ہے جس پر گناہوں کے نقصانات اچھی طرح واضح ہو انسان کی کسی چیز کے نقصانات سے واقف ہو تو وہ اس سے بچتا ہے۔

، یہ انسان کی فطرت ہے مثال کے طور پر انسان زہر کے نقصانات سے واقف ہوتا ہے اس لئے وہ اس سے بچتا ہے اگر اسے یہ بتا دیا جائے کہ آپ کے سامنے جو ایک ہزار بسکٹ پڑے ہیں ان میں سے نو سو ننانوے بالکل ٹھیک ہیں صرف ایک بسکٹ میں زہر ہے آپ کھا لیجئے تو کیا وہ اسے کھا لے گا وہ انسان اسے کھانے کے لئے بالکل تیار نہیں ہو گا وہ کہے گا کہ کیا پتہ جس کو میں کھا رہا ہوں اس میں زہر ہو کیوں کہ ہمیں پتا ہے کہ زہر کے کھا لینے سے انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

اس لیے نہیں کھاتے لیکن ایک بچہ جو اس سے واقف نہیں ہے اس بچے کو ایک بسکٹ دے اور اس سے کہ یہ زہر والا ہے تم کھا لو تو وہ بچہ اسے منہ میں ڈال لے گا اس لیے کہ وہ اس کے نقصان سے واقف نہیں ہے اس مثال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب انسان کسی چیز کے نقصان سے واقف ہوتا ہے ہے تو وہ اس کے قریب بھی نہیں پڑتا اور ہر ممکن طریقے سے بچتا ہے۔

، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ مجھے نقصان ہو جائے گا دے تو لوگ ڈر کر بھاگ جاتے ہیں بڑا سانپ تو کیا اگر سانپ کا کوئی چھوٹا بچہ بھی کسی گھر میں نظر آجائے تو عورتیں شور مچا دیتی ہیں جب تک اس کو مار نہ لیا جائے تب تک وہ چین سے نہیں بیٹھنے دیتی وہ کہتی ہیں کہ چونکہ گھر میں بچے ہیں اس لیے اس کو مارنا ضروری ہے کیونکہ ہم سانپ کے نقصانات سے واقف ہیں اس لئے اگر وجود اپنے گھر میں برداشت نہیں کر سکتے ہم جانتے ہیں کہ باہر لوگ رات کو ڈاکے ڈالتے ہیں۔

، وہ لوگوں کے گھروں کو لوٹ بھی لیتے ہیں اور بعد اوقات ان کو جان سے بھی مار دیتے ہیں یہاں تک کہ کوئی درندہ صفت ڈاکو عزتیں بھی خراب کر دیتے ہیں اس لیے بندے کے دماغ میں ڈاکوؤں کا ایک ڈر سا رہتا ہے اگر کوئی بھی نہ واقف بندہ رات کے وقت آپ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹائے تو آپ کبھی کھولنے کے لئے تیار نہیں ہوتے آپ اسے کہیں گے کہ پہلے اپنا تعارف کراؤ جب تک آپ اس کا مکمل تعارف نہیں کر لیتے اس وقت تک اس اجنبی آدمی کے لئے دروازے نہیں کھولتے اگر وہ کہیں کہ باہر سردی ہے۔

، دروازہ جلدی کھولو تو آپ کہیں گے کہ میں دروازہ نہیں کھول سکتا اگر وہ آپ کی منت سماجت بھی کرے گا تو آپ اس کے لئے دروازہ نہیں کھولیں گے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ ڈاکو ہی ہوں کیوں کہ آپ ڈاکو کے نقصانات سے واقف ہیں اس لیے آپ اجنبی شخص کے لیے اپنے گھر کا دروازہ رات کے وقت ہرگز نہیں کھولیں گے جب یہ مثالی سمجھ میں آگئی تو یہ باتیں اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے اور گناہوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!